پڑوسی ممالک امریکہ کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے باز رہیں، طالبان کا مشورہ

8

افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں، اگر دوبارہ ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی غلطی ہوگی

کابل: امریکہ سمیت دیگر ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان طالبان کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اب اس نےافغانستان کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکہ کو فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان کی تاریخی غلطی ہوگی۔
ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ، افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے آخری مراحل میں ہے اور حالیہ دنوں میں امریکہ اور پاکستان کے مابین سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں نے ان قیاس آرائی کو جنم دیا ہے کہ پنٹاگن طالبان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے نئے اڈوں کی تلاش میں ہے۔
افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں، اگر دوبارہ ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی غلطی ہو گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ اس طرح کی گھناؤنی اور اشتعال انگیز حرکتوں کے بعد خاموش نہیں رہیں گے۔ افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک نے طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل میں امریکی فوج کو فضائی اڈوں کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس طرح کی مدد بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے تاہم کچھ ممالک اپنی فضائی حدود کو فوجی پروازوں کے لئے استعمال کرنے کی اب بھی اجازت دیتے ہیں۔
تاہم، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوج یا ہوائی اڈہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے، اس حوالہ سے متعلق کوئی قیاس آرائی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور ان سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔
گزشتہ روز حکومت پاکستان نے ایک بار پھر ایسی میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا تھا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملک سینیٹ کو بتایا کہ یہ خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان اپنی سرزمین پر کبھی بھی کسی امریکی اڈے کی اجازت نہیں دے گا۔
گزشتہ سال طالبان اور واشنگٹن کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا جس نے افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی تھی۔ اس کے بدلے میں طالبان نے کہا کہ وہ افغانستان کو القاعدہ اور عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروپ جیسے جہادی گروہوں کا اڈہ نہیں بننے دیں گے۔ گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نےاعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک باقی تمام ڈھائی ہزار امریکی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔
لیکن امریکی انخلا سے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ کیا افغان حکومت اکیلے طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی فورسز اور طالبان میں روزانہ کی بنیاد پر تصادم ہو رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لئے امن مذاکرات التوا کا شکار ہونے کے بعد طالبان مزید علاقے قبضے میں لینے کے لیے اپنی مہم تیز کر رہے ہیں، جس میں دونوں جانب سے مسلح افراد سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی جاری ہیں۔