اے ایم یو اقلیتی کردار کا مسئلہ:ناامیدی کے بجائے مضبوط قانونی لڑائی کی ضرورت

ڈاکٹر ظل الرحمن
ملت ٹائمز
ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم تعلیمی مرکز اور گہوارہ علم وفن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی حصولیابی کے لیے پچھلی کئی دہائیوں سے منظم وغیر منظم کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ سابقہ حکومت کے مثبت رد عمل اور یونیورسٹی انتظامیہ کی حوصلہ افزا کوششوں کے بعد یہ امید جاگی تھی کہ دہائیوں کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا جو ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں نے اپنے ذہن ودماغ میں سجا رکھاہے۔سب متوقع تھے کہ جو یونیورسٹی ہندوستانی مسلمانوں کے دھڑکتے دل کی حیثیت رکھتی ہے،اسے عدالت عالیہ کے ذریعہ اقلیتی کردار کا درجہ دیا جائے گااور وہاں داخلوں میں 50فیصد نشستیں مسلمانوں کے خاص کی جائیں گی۔ لیکن ان کاوشوں کو اس وقت شدید صدمہ سے دوچار ہونا پڑا جب موجودہ حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ ہونے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس نے اس سلسلے میں سابقہ حکومت کے موقف اور اس کی دلیلوں سے رجوع کرتے ہوئے نئی دلیلوں کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا ۔ اٹارنی جنرل مکل روہاتگی نے کہا کہ سیکولر ملک کی انتظامیہ کو اقلیتی ادارہ کے قیام کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے عزیز باشا کیس 1967 میں پانچ ججوں والی بنچ کے ذریعہ جو فیصلہ سنایا تھا اور 2005 میں الہ اباد ہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے متعلق جو فیصلہ سنایا ہے، حکومت اس سے پوری طرح اتفاق کرتی ہے۔موجودہ فروغ برائے انسانی وسائل کی وزیر محترمہ سمرتی ایرانی نے بھی 17 جنوری کو کہا کہ علی گڑھ اور جامعہ ملیہ جیسی یونیورسٹیاں پارلمیانی ایکٹ کے ذریعہ قائم کی گئی ہیں ، اس لیے حکومت کا موقف درست ہے۔ابھی مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن نئی حکومت کے ذریعہ عدالت عالیہ میں پیش کیے گئے اس موقف کے بعد پورے ملک میں ایک قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والا ہرشخص اسے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر شب خون مارنے کی سازش قرار دے رہا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا امید وخوف کے ساتھ انتظار کرنے لگا ہے۔اقلیتوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسا کرکے یونیورسٹی کے دعوی کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ہندوستانی دستور اپنے آپ میں مثالی ہے۔ اس کی دفعہ 30(1) کے مطابق اقلیتوں کو اپنی پسند کے ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کا پورا اختیار حاصل ہے۔زیادہ تر اقلیتی ادارے لسانی اقلیتوں کے ہیں۔ ہندوؤں کے بھی اقلیتی ادارے ہیں، ایسی صورت میں مسلمانوں کے ذریعہ قائم کیے گئے ان دونوں اداروں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی کردار کی حیثیت سے کام کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر اس کی تنفیذ میں یونیورسٹی کے سابقہ ایکٹ کی وجہ سے کسی طرح کی رکاوٹ ہے تو ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ اس کی اصلاح کی جانی چاہیے یا عدالت عالیہ کو اس سلسلے میں تاریخ فیصلہ سنانا چاہیے تاکہ ان دونوں مایہ ناز اداروں کو مکمل اقلیتی کردار کا درجہ حاصل ہوسکے اور ان میں مسلم اقلیت کو 50 فیصد ریزرویشن دیا جاسکے۔
یہ کہنا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے، درحقیقت دستور کی دفعہ 30 کی کھلی مخالفت ہے،TMA پائی فاؤنڈیشن کیس میں سپریم کورٹ کی 11جج والی بنچ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ’’اپنی پسند کے تعلیمی ادارے‘‘میں ہرطرح کے ادارے شامل ہیں۔ اس میں یونیورسٹی اور سنٹرل یونیورسٹی بھی شامل ہے۔یہاں تک کہ خود عزیز باشا کیس 1967میں عدالت عالیہ نے کہا تھا کہ اس میں یونیورسٹی بھی شامل ہے، اس طرح سنٹرل یونیورسٹی بھی اقلیتی ادارہ ہو سکتاہے اگر پارلیمنٹ سے اسکے سلسلے میں پاس ہونے والے قانون میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ جسٹس ایچ آر کھنا نے اپنے تاریخی کلمات میں سینٹ اکزیویر کیس میں کہاتھا کہ ’’اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کی کوئی بھی کوشش نہ صرف اعتماد شکنی ہے بلکہ دستوری طور پر ممنوع ہے‘‘۔
یہ سب جانتے ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو مسلمانوں نے قائم کیا۔ 1920 میں پارلیمنٹ نے اے ایم یو ایکٹ کے ذریعہ اسے سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ دیا۔لیکن بدقسمتی سے ایکٹ کے پروویزن میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ اقلیتی ادارہ ہینہ ہی اقلیتوں کے لیے 50 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا ذکر کیا گیا۔ اسی کمزوری کو دلیل بناکر1967 میں عزیز باشا کیس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا کہ چونکہ پارلیمنٹ نے اس ادارہ کو قائم کیا ہے اس لیے مسلمانوں کو اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے کاحق حاصل نہیں ہے،یہ بھی تعجب خیز ہے کہ اتنے اہم کیس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سپریم کورٹ میں فریق نہیں تھا،بلکہ قانون سازوں کیذریعہ جو قانون بنایا گیا تھا صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ سنا یا گیا، یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ ایک ادارہ جسے مسلمانوں نے قائم کیا، اسے صرف سنٹرل یوینورسٹی کا درجہ دیے جانے کی وجہ سے یہ کہ دیا گیا کہ حکومت نے اسے قائم کیاہے۔
خود سپریم کورٹ نے سنٹ اسٹیفن کے متعلق 1993 میں اس کے اقلیتی ادار ہ ہونے کا فیصلہ سنایا تھا، عدالت عالیہ کی دلیل تھی کہ اسے عیسائیوں نے قائم کیاہے اور اس کانام، لوگو،موٹو اور وہاں موجود گرجا گھر اور انجیل خاں سب اس کے عیسائی اقلیتی ادارہ ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد خود عدالت نے 1967 میں عزیز باشا کیس میں سنائے گئے اپنے فیصلہ کو مسترد کردیا ہے، کیونکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسلم نام، شعار، موٹو، مسجد، امام وغیرہ سب اس کے اقلیتی ادارہ ہونے کی کھلی گواہی دے رہے ہیں ، جس کے متعلق ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
پارلیمنٹ نے 1981میں ایک ترمیمی ایکٹ پاس کرکے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اے ایم یو مسلمانوں کے ذریعہ قائم کردہ ادارہ ہے، پارلیمنٹ نے اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاتھا کہ’’یونیورسٹی کامقصد خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے تعلیمی اور ثقافتی ترقی کو فروغ دینا ہے‘‘لیکن بد قسمتی سے 1981کے اس ترمیمی ایکٹ میں بھی اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہاں مسلمانوں کو 50فیصد ریزویشن دیا جائے ، اس کا نفاذ تو دور کی بات ہے۔چنانچہ معاملہ جوں کاتوں الجھا رہا۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ 1920 کا یونیورسٹی ایکٹ ہو یا اس میں ہونے والی ترمیم جو 1951او ر1965میں ہوئی ،ان میں یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی،اور اس نے انتظام وانصرام کے سلسلے میں حکومت کو ضرورت سے زیادہ اختیار دے دیا ۔ چنانچہ مذکورہ ایکٹ اور اس میں ہونے ترمیموں میں موجود پروویزنس کو ختم کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اقلیتی کردار کا فیصلہ اس کی تاریخی حیثیت کی بنیاد پر کیا جائیگا نہ کہ اس کے سلسلے میں پاس کیے گئے کسی قانون کی بنیاد پر۔ اسی طرح 1981 میں جو ترمیم کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے ’’یونیورسٹی کامقصد خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے تعلیمی اور ثقافتی ترقی کو فروغ دینا ہے‘‘اس میں مزید اس شق کا اضافہ کیا جائے کہ’’چنانچہ اس یونیورسٹی کا یہ حق ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے 50فیصد نشستیں مختص کرے‘‘۔
مذکورہ مطالبہ کی تائید خود عدالت عالیہ نے کئی معاملوں میں کی ہے۔ TMAپائی فاؤنڈیشن کیس میں بھی عدالت نے کہا تھا کہ اقلیتی اداروں کو حکومت کے ذریعہ لیا نہیں جاسکتا،یہاں تک حکومتی امداد بھی اس شرط پر نہیں دی جائے گی کہ اس کے اقلیتی کردار کو تباہ کردیا جائے۔کسی بھی اقلیتی ادارہ کو قومی بھی نہیں بنایا جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت عالیہ علی گڑھ یونیورسٹی کے اس اہم مسئلہ میں ایک تاریخی فیصلہ سنا کر کڑوروں مسلمانوں کے خوابوں کے شیش محل کو چکنا چور ہونے سے محفوظ رکھے گا۔کیونکہ مسلمانوں کے لیے 50 فیصد سیٹیں ریزرو کرنے کے سلسلے میں پارلیمانی ایکٹ میں ترمیم کے لیے اس حکومت سے امید نہیں کی جاسکتی جس نے اس کے اقلیتی کردار کیخلاف اپنا موقف پیش کیا ہے۔اب آخری امید عدالت عالیہ پر ٹکی ہے، دیکھنا ہیوہاں ہماری امیدیں کس حد بر آتی ہیں، البتہ یونیورسٹی انتظامیہ کو پوری مضبوطی اور حوصلہ وقوت کے ساتھ قانونی لڑائی جاری رکھنی چاہیے اور اس سلسلے میں تمام امکانات کو بروئے کار لانا چاہیے۔
(مضمون نگار امام محمد بن سعود یونیورسٹی ، ریاض میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں )
zrtaimi@yahoo.co.in