خواتین بھی احتجاج كا حق ركھتی ہیں

مولانا ندیم الواجدی
كئی موضوعات ذہن میں تھے جن میں سے كسی ایک پر آج كا كالم لكھنا تھا مگر كسی وجہ سے پیش نظر موضوع پر لكھنے كی ضرورت محسوس ہوئی اس لیے وہ موضوعات كسی اور موقع كے لیے اٹھا كر ركھ دئے گئے۔
اس وقت ملعون طارق فتح كے حوالے سے بہت كچھ پڑھنے اور سننے كو مل رہا ہے‏، ٹی وی چینلوں پر اس كی ہفوات اور بكواس كا سلسلہ برابر جاری ہے‏، ادھر مسلمان آزردہ خاطر بھی ہیں اور غضب ناک بھی‏، مختلف ذرائع سے وہ اپنے غم وغصہ كا اظہار بھی كررہے ہیں‏، گذشتہ ڈیڑھ صدی سے دیوبند اس طرح كے فتنوں كا مقابلہ كرتا آیا ہے‏، اس ملعون كے خلاف بھی پہلی آواز دیوبند ہی سے بلند ہوئی‏، اور دار العلوم دیوبند كے كچھ نوجوان فضلاء سینہ سپر ہوكر سوشل میڈیا پر آئے‏، اِن پرجوش اور علمی اعتبار سے مستحكم و مضبوط نوجوان علماء نے اس بدبخت كا ناطقہ بند كردیا‏، دیوبند كی پیش قدمی كے بعد اب ملک كے دوسرے حصوں سے بھی احتجاج كی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں‏، الحمد للہ احتجاج كا یہ سفر كامیابی كی طرف گامزن ہے‏، ایك غیر معمولی واقعہ یہ پیش آیا كہ دیوبند میں پہلی بار مسلم خواتین نے ہزاروں كی تعداد میں اپنے گھروں سے نكل كر اس شیطانِ رجیم كے خلاف اپنے غم وغصے كا اظہار كیا ہے‏، بلاشبہ مسلمان ہونے كے ناطے اور امت مسلمہ كا نصف حصہ ہونے كے حوالے سے انہیں اس كا حق ہے‏، جس كا انھوں نے حدود شریعت میں رہتے ہوئے استعمال كیا ہے‏، ہم انہیں دل كی گہرائیوں سے مبارک باد پیش كرتے ہیں‏۔
خواتین اسلام كے اس پر امن احتجاجی مظاہرے كی خبر كسی ٹی وی نیوز چینل پر نظر نہیں آئی‏، جب كہ كئی ٹی وی چینلوں كے رپورٹر موقع پر موجود تھے اور انھوں نے اس پروگرام كے مناظر اپنے كیمروں میں قید بھی كئے تھے‏، البتہ ہندی اور اُردو اخبارات نے كسی بخل سے كام نہیں لیا‏، خبروں كے ساتھ فوٹو بھی چھپے ہوئے ہیں‏، سوشل میڈیا نے بھی اپنا بھرپور كردار ادا كیا ہے‏، دیوبند كی سرزمین پر جسے ہندی میڈیا والے فتووں كی نگری كہتے ہیں خواتین كا یہ احتجاج تاریخ میں پہلی بار ہوا اور وہ بھی نہایت شان دار طریقے پر‏، مظاہرے میں نظم وضبط مثالی تھا‏، تمام خواتین مكمل پردے میں تھیں‏، سب كی نگاہیں جھكی ہوئی تھیں‏، ہزاروں كی بھیڑ تھی مگر كسی طرح كی كوئی آواز‏، كوئی شور‏، كوئی ہنگامہ نہیں تھا‏، سب كی زبانوں پر درود شریف كا ورد تھا‏، كیوں كہ وہ نكلی ہی تھیں اس ذات گرامی كے ناموس كی حفاظت اور دفاع كا جذبہ دلوں میں لے كر جس ذات عالی كے لیے درود پڑھا جاتا ہے‏، جس راستے سے یہ جلوس گزرا چلنے والوں نے وہ راستہ پوری طرح خالی ركھا اور احتجاجی خواتین كو پورا پورا احترام دیا‏، محلہ ابوالبركات میں واقع معہد عائشہ الصدیقہؓ قاسم العلوم للبنات كی عمارت سے لے كر محلہ خانقاہ تك آمد و رفت كا یہ سفر خواتین اسلام كے جوش وجذبے‏، انكسار و وقار كے ساتھ ساتھ ناظرین كے خوب صورت طرز عمل كا ایك یاد گار واقعہ بن گیا‏، اس كے لیے ہم احتجاجی خواتین اور ناظرین دونوں ہی كو محبت و عقیدت كا سلام پیش كرتے ہیں۔
یہ واقعہ خبروں كا موضوع تو ہے اور آج كے اخبارات نے اس خبر كی خوب اشاعت بھی كی ہے‏، مگر اپنی نوعیت كے لحاظ سے منفرد اور اہمیت كا حامل ہونے كے باوجود یہ ایسا واقعہ بھی نہیں تھا كہ اس پر كوئی مضمون لكھا جاتا‏، مضمون لكھنے كی ضرورت اس لیے پیش آئی كہ كچھ لوگوں كو عورتوں كا سڑكوں پر آكر اس طرح احتجاج كرنا بڑا ناگوار گزرا ہے‏، ایسے ہی لوگوں كی نمائندگی كرتے ہوئے ایک عالم دین جو ایک بڑی دینی درس گاہ كے استاذ بھی ہیں‏، راقم السطور كے مكتبے دار الكتاب میں تشریف لائے‏، اور كیوں كہ یہ مظاہرہ میری نگرانی میں منظم ہونے والا تھا‏، اور اس كی قیادت میری اہلیہ كررہی تھیں‏، اس لیے انھوں نے كسی تمہید كے بغیر ارشاد فرمایا كہ تم یہ بدعت كیوں پھیلا رہے ہو‏، پھر كچھ آگے بڑھے اور اس مظاہرے كو امر منكر قرار دیتے ہوئے وہ حدیث سنانی شروع كردی جس میں كسی امر منكر كو دیكھ كر پہلے ہاتھ سے اسے روكنے اس پر قدرت نہ ہو تو زبان سے منع كرنے اور اس كی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے برا سمجھنے كا حكم دیا گیا ہے‏، میں نے ان سے نہایت ادب واحترام كے ساتھ عرض كیا كہ جناب آپ كے پاس اس كی كیا دلیل ہے كہ یہ امر منكر ہے اور اس كا كیا ثبوت ہے كہ اس پر بدعت كی تعریف صادق آتی ہے‏، یہ سن كر وہ واپس چلے گئے‏، كچھ دیر كے بعد انھوں نے اپنے ایک شاگرد كے ذریعے اپنے یہ فرمودات لكھ كر بھی مجھے بھجوائے میں نے اس كے جواب میں بھی یہ ہی لكھ كر بھیج دیا كہ اس كا فیصلہ كون كرے گا كہ یہ امر منكر ہے‏، معلوم ہوا ہے ملت كے كسی ” غیرت مند “ شخص نے ایک استفتاء بھی مفتیان كرام كی خدمت میں بھیج كر اس كا جواب مانگا ہے‏۔
یہ وہ لوگ ہیں جو خواتین اسلام كو نصف انسانیت یا نصف امت كے بجائے پیروں كی جوتی سمجھتے ہیں‏، یہ صحیح ہے كہ خواتین كا اصل ٹھکانا ان كا گھر ہے‏، مگر وہ گھر ان كا راحت كدہ ہے یا ان كی سلطنت ہے جہاں وہ خود مختارانہ حیثیت ركھتی ہیں‏، ان جیسے لوگ خاتون خانہ كے لیے اس كے گھر كو قید خانہ سمجھتے ہیں‏، جہاں سے اس كو سزائے حیات پوری كركے ہی نكلنا ہے‏، یہ وہ لوگ ہیں جن كے فكر وخیال اور طرزِ عمل نے عورتوں كے حقوق كے حوالے سے اسلام پر نكتہ چینی كرنے والوں كو اعتراضات كا موقع فراہم كیا ہے‏، ورنہ درحقیقت عورتوں كے تئیں اسلام كا نقطہٴ نظر وسعت كا حامل بھی ہے‏، حقیقت پسندانہ بھی ہے اور عورتوں كے عزت و وقار كے مطابق بھی ہے‏۔
جہاں تک احتجاج كا سوال ہے‏ ہر شخص كو اس كا حق حاصل ہے اگر اس پر ظلم ہورہا ہو‏، خواہ یہ ظلم كسی فرد كی طرف سے ہو یا جماعت كی طرف سے‏، یا حكومت كی جانب سے‏، اگر اس كے ساتھ ناانصافی ہورہی ہو‏، اس كے حقوق ضائع كئے جارہے ہو‏، اس كی آزادی پر قدغن لگائی جارہی ہو‏، اس كی جان ومال اور آبرو پر نشتر چلائے جارہے ہوں‏، اس كے معتقدات پر نشانہ لگایا جارہا ہو‏، اس كے احساسات مجروح كئے جارہے ہوں تو اسلام نے ہر فرد و بشر كو پوری قوت اور توانائی كے ساتھ آواز اٹھانے اور اس كے لیے ہر وہ طریقہ اختیار كرنے كی اجازت دی ہے جس كی شریعت میں گنجائش ہو اور ملكی قوانین جس كی اجازت دیتا ہو‏، اللہ تعالیٰ نے ہر مظلوم كو چھوٹ دی ہے كہ وہ اپنے خلاف ہونے والے مظالم كی داستانیں كھلے عام سناتا پھرے اور چیخ چیخ كر بیان كرے‏، قرآن پاک كے چھٹے پارے كی پہلی آیت میں مظلوم كے اس حق كا ذكر موجود ہے‏، اور اس میں كہیں یہ ذكر نہیں كہ اس حق كا تعلق صرف مرد سے ہے‏، جو كچھ طارق فتح بک رہا ہے اور نیوز چینل اس كی ہفوات نشر كررہے ہیں‏، اور حكومت وقت كا جو جانب دارانہ موقف ہے وہ مسلمان مرد وزن سب كے احساسات اور معتقدات پر نشتر زنی ہی تو ہے‏، اسے ظلم نہیں كہیں گے تو كیا كہیں گے‏، اگر عورتیں پردے میں رہ كر باوقار انداز میں زبان سے كچھ كہے بغیر‏، پلے كارڈوں پر لكھے ہوئے نعروں كے ساتھ سڑكوں پر آگئیں تو كیا قیامت آگئی‏، اس میں شریعت كی خلاف ورزی كا پہلو كہاں سے نكل آیا‏۔
اسلام نے تو ظلم كے خلاف آواز اٹھانے كی پوری ہمت افزائی بھی كی ہے حدیث شریف ” أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر “” ظالم حكمراں كے سامنے حق بات كہنا سب سے بڑا جہاد ہے “ سے یہی تعلیم تو ملتی ہے‏، اس میں عورت مرد كی كوئی تخصیص نہیں ہے‏، سورہٴ حجرات كی آیت نمبر 9 سے بھی ہمیں یہ ہی سبق ملتا ہے كہ ظلم وزیادتی كے وقت مسلمان خاموش نہ بیٹھیں بل كہ جس شخص یا جماعت یا گروہ كی زیادتی ہو تمام مسلمان متفق ہوكر اس كا مقابلہ كریں یہاں تک كہ ظالم ظلم وزیادتی سے باز آجائے‏، اس آیت میں بھی مرد وزن كی كوئی تفریق نہیں ہے‏۔
چلئے ان سب باتوں كو بھی چھوڑئے‏، ہوسكتا ہے ان كی كچھ تاویل كرلی جائے‏، مگر یہ لوگ حضرت علیؓ كے دور خلافت میں ام المؤمنین حضرت عائشہ الصدیقہؓ كے طرز عمل كو كس خانے میں فٹ كریں گے‏، جس وقت حضرت عائشہؓ كو حضرت عثمان غنیؓ كی شہادت كی خبر ملی آپ اس وقت حج سے فارغ ہوكر مدینہ منورہ كی طرف واپسی كے سفر پر تھیں‏، خبر سن كر واپس مكہ معظمہ تشریف لائیں اور حضرت عثمان غنیؓ كی شہادت كا بدلہ لینے كے لیے مجمع عام میں انھوں نے پُرجوش تقریر فرمائی‏، اپنی ولولہ انگیز تقریر میں حضرت عائشہؓ نے مسلمانوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمایا: ‘‘اے لوگو! مختلف مقامات كے اوباشوں نے مدینے كے غلاموں كی مدد سے عثمانؓ كو شہید كردیا ہے‏، ان كی یہ حركت بہت بڑا ظلم ہے‏، جس خون كو خدا نے حرام كردیا تھا اسے بہایا‏، اور بلد حرام میں بہایا اور شہر حرام (ماہ ذی الحجہ) میں بہایا‏، خدا كی قسم عثمان كی ایک انگلی ان بلوائیوں كی ایک دنیا سے زیادہ محترم ہے’’ یہ تقریر سن كر موقع پر موجود مسلمانوں كا خون جوش انتقام سے كھولنے لگا‏، بہت سے لوگ یہ تقریر سن كر اور اس تقریر كی خبر عام ہونے كے بعد صحابہٴ كرامؓ اور بڑے بڑے حكام و والی حضرت عائشہؓ كے جھنڈے كے نیچے جمع ہوگئے‏، آپ ان سب كی قیادت كرتی ہوئی بصرہ تشریف لے گئیں‏، والئ بصرہ عثمان بن حنیف نے اپنے قاصدوں كو حضرت عائشہؓ كی خدمت میں بھیج كر مقصد سفر دریافت كیا‏، فرمایا: ‘‘میں اس لیے آئی ہوں كہ مفسدین نے حرم نبوی میں عثمان كا خون بہا كر جو فساد پھیلایا ہے اس سے مسلمانوں كو آگاہ كروں اور اس فساد كی اصلاح كے متعلق جو ان كی ذمہ داریاں ہیں ان سے خبردار كروں’’ اس كے بعد میدان جنگ میں صف آرائی ہو‏، لشكر میں حضرت عائشہؓ اونٹ پر سوار ہوكر ہودج میں باپردہ تشریف لائیں‏، تاریخ كی كتابوں میں اس واقعات كی تفصیلات موجود ہیں۔
آپ كو حضرت ام عمارہؓ بھی یاد ہوں گی جنھوں نے غزوہٴ احد میں دشمنوں كے ساتھ روبہ رو جنگ كی تھی‏، تاریخ میں ان كا ذكر ‘‘خاتون احد’’ كے نام سے ملتا ہے‏، حضرت صفیہؓ جو سركار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم كی پھوپھی اور حضرت حمزہؓ كی بہن تھیں‏، غزوہٴ احد كے موقع پر ان كی جاں نثاری كا واقعہ بھی خواتین اسلام كے لیے مشعل راہ ہے‏، اگر آپ ان واقعات كو دور اول كے واقعات كہہ كر آگے بڑھتے ہیں تو جنگ یرموك كے موقع پر خواتین اسلام كے ذریعے انجام دئے گئے كارناموں كے متعلق كیا كہیں گے‏، پوری تاریخ اسلام كی بہادر ماؤں اور بیٹیوں كے كارناموں سے بھری پڑی ہے‏، انھوں نے علم وادب‏، زہد وولایت كے میدانوں ہی میں نہیں بل كہ جنگ كے میدانوں میں بھی عزم و استقلال كی داستانیں اپنے لہو سے تحریر كی ہیں‏، زخمیوں كی مرہم پٹی كرنے‏، مجاہدین كو پانی پلانے اور ان كی ہمت بڑھانے بندھانے كا كام تو وہ ہر جنگ كے موقع پر كرتی رہی ہیں‏، بہت سی خواتین نے جہاد وقتال میں بھی بہادری كے وہ جوہر دكھلائے ہیں كہ مردوں كو رشک آتا تھا‏۔
كالم كی تنگ دامانی اجازت نہیں دیتی كہ یہاں دین اسلام كی سربلندی كے لیے خواتین اسلام كی خدمات اور قربانیوں كا تفصیل كے ساتھ ذكر كیا جائے‏، صرف اتنا عرض ہے كہ حق و باطل كی كش مكش آج بھی جاری ہے‏، میدان جنگ اور طریقہٴ جنگ بدلا ہوا ہے‏، دشمن موجود ہے‏، آج بھی خواتین اسلام كی رگوں میں حضرت عائشہؓ كا جوش وجذبہ لہو بن كر دوڑ رہا ہے‏، ان میں كوئی ہندہؓ ہے‏، كوئی ام حكیمؓ ہے‏، كوئی خولہؓ ہے‏، كوئی اسماء بنت ابی بكرؓ ہے‏، اسلام كی ان بیٹیوں كو اپنی تنگ نظری كی بھینٹ نہ چڑھائیں‏، وہ سچے جذبے كے ساتھ اپنے گھروں سے باہر نكلی ہیں ان كے جذبے كو خراج تحسین پیش كرنا ہی ہماری دیانت داری كا تقاضا ہے۔
nadimulwajidi@gmail.com