یوپی سے یہ امید نہیں تھی

یوپی سے یہ امید نہیں تھی

سر دیوار : نزہت جہاں
اتر پردیش جیسی تاریخی ، سیکولر اور سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والی ریاست کا ردعمل ایسا ہوگا یہ کبھی بھی کسی نے نہیں سوچا تھا، 2014 کے بعد دوبارہ وہاں بی جے پی کی تاریخ سازجیت ہوگی یہ کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آیا تھا اور نہ بی جے پی کو یہ توقع تھی کہ و ہ اتر پردیش میں وہاں کی دو علاقائی پارٹیوں کا سوپرا صاف کرکے واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوجائے گی۔ لیکن یہ سب ہوگیا، ہندوستان کے سب سے بڑے آبادی والے صوبے کی 403 سیٹوں میں سے 325 سیٹوں پر بی جے پی نے تاریخ ساز جیت حاصل کرلی، بیالیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے اپنی سیاسی مخالفین کو دانتوں تلے چنے چبانے پر مجبور کردیا، تیس سالوں سے سیاست میں دلت ووٹوں کے سہارے نمایاں اثر و رسوخ رکھنے والی مایاوتی کا نام و نشان مٹادیا، سائیکل پر سوار ہوکر اتر پردیش میں حکومت کرنے والے پریوار یعنی سماجوادی پارٹی کے خوابوں کو چکنا چور کردیا اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے وجود پر ہی سوالیہ نشان قائم کردیا۔
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا نتیجہ حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے، کسی بھی ایک پارٹی کا اتنی بڑی کامیابی حاصل کرلینا خود ملک کی جمہوریت کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے ،کیوں کہ مضبوط جمہوریت کیلئے مخلوط حکومت سب سے اہم ہوتی ہے یا پھر اتنا ضروری ہے کہ وہاں مضبوط اپوزیشن ہو لیکن اتر پردیش میں ایسا کچھ نظر نہیں آرہاہے، جس ریاست میں حکومت کیلئے 206 سیٹوں کی ضرورت تھی وہاں بی جے پی کے پاس 328 سیٹیں ہیں، جبکہ 2012 میں 224 سیٹوں پر جیت درج کرکے حکومت کرنے والی سماج وادی پارٹی کے پاس صرف 47 سیٹیں ہیں،بی ایس پی اور کانگریس کسی تذکرہ کے قابل نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتر پردیش میں یہ سب کیسے ممکن ہوگیا، سیکولر طاقتوں کو کیوں کر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، دو نوجوان لیڈر اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کی انتخابی جدوجہد کیوں کامیاب نہیں ہوسکی، دلت ووٹوں کے سہارے اقتدار کے گلیاروں تک رسائی حاصل کرنے والی مایاوتی کو کیوں اتنے برے دن کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا سب ای وی ایم مشینوں کی گربڑی کی وجہ سے ہوا ہے اور ان لوگوں کا اعتراض بجا ہے جو کہہ رہے کہ مسلم اکثریتی حلقوں سے بھی بی جے پی کی جیت ہوگئی جو ناقابل یقین ہے جس میں دنیا بھر میں اپنی اسلامی شناخت رکھنے والا دیوبند بھی شامل ہے جہاں سے آرایس ایس سے وابستہ بی جے پی نمائندہ کی جیت ہوئی اور مسلم امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ، مایاوتی نے سب سے پہلے یہ آواز بلند کی تھی ،اس کے بعد اکھلیش یادو، اسد الدین اویسی اور کئی لیڈروں نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے بھاجپا کی جیت کو ای وی ایم ہیکنگ کا نتیجہ قرار دیا لیکن دوسری جانب یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہی سب مشینیں پنجاب میں بھی تھیں جہاں کانگریس کو اکثریت ملی، یہی مشینیں دہلی اور بہار کے انتخابات میں استعمال کی گئی تھیں جہاں بی جے پی کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم جن ممالک سے ٹیکنالوجی کی ایجاد ہوئی ہے وہاں ای وی ایم کے بجائے بلیٹ پیپر کا استعمال بھی محل غور ہے اور لگتاہے کہ اس سے رائے عامہ کے اظہار کو خطرہ ہے۔ یا پھر اتر پردیش کی عوام مرکز میں بی جے پی کی تین سالہ حکومت سے مطمئن ہے، انہیں لگتاہے کہ مودی حکومت میں ان کے اچھے دن آگئے ہیں،ان کی معاشی ،تعلیمی اور سماجی ترقی ہوئی ہے ،مودی نے جووعدے کئے تھے وہ پورے کردیئے گئے ہیں یا پھر ملک میں نظریاتی سیاست غالب آگئی ہے، اب ووٹنگ ذات پات اور ترقی کے بجائے نظریات کے نام پر ہونے لگی ہے اور بی جے پی کے انتہاء پسندانہ نظریہ کو ہندو سماج کے درمیان مقبولیت ملتی جارہی ہے۔ مجھے یہ آخری وجہ سب سے قوی نظر آتی ہے اور اپنے دوست صحافی شمس تبریز قاسمی کے اس تجزیہ سے مجھے اتفاق ہے جو انہوں نے نتیجہ کے دن ہے ملت ٹائمز میں لکھا تھا کہ ’’ اتر پردیش کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ یہاں کی عوام نے ترقی، وکاس اور فلاحی کاموں کو صرف نظر کرتے ہوئے فرقہ پرستی اور ہندتو کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے ووٹنگ کی ہے، اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ مرکز میں تین سالہ بی جے پی کا دور اقتدار ناکام ثابت ہوا ہے اور بلاتفریق مذہب عوام ترقیاتی بنیادی پر اس حکومت سے خوش نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بی جے پی تاریخ ساز جیت حاصل کررہی ہے، عوام بڑی تعداد میں اسے حکومت میں دیکھنا چاہتی ہے تواس کا واضح مطلب نکلتاہے کہ ہندوستان کی جمہوریت بدل رہی ہے، ڈیموکریسی کا منظر نامہ تبدیل ہورہا ہے، یہاں کی عوام ترقی کے بجائے نفرت اور فرقہ پرستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ ایسے لوگوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے جو مسجد اور مندر کے نام پر فساد کرائے، جو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرے، جو مسلم عباد ت گاہوں کو منہدم کرانے کا دعوی کرے، جو مسلمانوں کو یہاں سے در بدر کرنے کی باتیں کرے، جس کے منی فیسٹو میں رام مندر کی تعمیر کا وعدہ ہو ‘‘۔ بی جے پی کی اس جیت میں مسلمانوں کے آپسی انتشار کے ساتھ دو اہم فرنٹ نے بھی خصوصی کردار ادا کیا ہے کیوں کہ سیکولر ووٹ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، کچھ بی ایس پی کو گیا کچھ ایس پی اتحاد کے کھاتے میں گیا، اگر بہار کی طرح یہاں بھی اتحاد قائم کیا جاتا تو شاید بی جے پی کو اتنی بڑی جیت نہیں مل پاتی، مسلم ووٹ بھی کئی حصوں میں بٹ گیا دوسری جانب چالیس فیصد سے زائد ہندو ووٹ متحد ہوگیا اور اس طرح بی جے پی کو آزادی کے بعد پہلی مرتبہ اتر پردیش میں تاریخ رقم کرنے کا سنہرا موقع ملا۔
اتر پردیش میں بی جے پی کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر جس طرح کی تحریریں گردش کررہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ مسلمان خطرات کی زد میں آگئے ہیں، وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں، وہ بہت بڑی مصیبت کا سامنا کررہے ہیں، اسلام خطرے میں ہے، مسلمانوں سے حق شہریت سلب کرلیا جائے گا، یہاں بھی میانمار کی کہانی دہرائی جائے گی یا پھر اندلس کی طرح اسلام کا چراغ گل کردیا جائے گا۔ حالاں کہ یہ سب ایک وہم اور مفروضہ ہے اور مسلمانوں کو مایوس کیا جارہاہے، تلخ سچائی یہ ہے کہ جس کانگریس پارٹی پر مسلمانوں نے ہمیشہ اعتماد کیا ہے، اس نے بھی پورے ستر سالوں تک مسلمانوں کا استحصال کیا ہے، مسلم کمیونٹی کو تباہ و برباد کیا ہے، بابری مسجد کو شہید کرنے کا جرم انجام دیا ہے، سیکڑوں فساد کراکر بے گناہ مسلمانوں کو مارا ہے اس لئے اب اگر بی جے پی اقتدار میں آگئی ہے، اس کے قد میں اضافہ ہورہا ہے اور دن بہ یہ پارٹی مضبوط ہوتی جارہی ہے تو مسلمانوں کو بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیئے، بی جے پی رہنماؤں سے رشتہ ہموار کرنا چاہیئے، انہیں احساس دلانے کی کوشش ہونی چاہیئے کہ مسلمان بی جے پی سے نفرت نہیں کرتے ہیں، وہ اس پارٹی کی حکومت سے بھی اتناہی خوش ہیں جتنی دوسری پارٹیوں کے اقتدارمیں رہنے سے ہوتی ہے، انہیں اپنے حقوق سے مطلب ہے، مسلمانوں کا حکومت سے صرف یہ مطالبہ ہے کہ انہیں آئینِ ہند پر عمل کرنے دیاجائے کیوں کہ یہ بھی ایک پارٹی ہے اور اس سے وابستگی اختیار کرنے میں ہی فائدہ ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ملک میں ہندتو کا اثر بڑھتا جارہا ہے، سیکولزم کا گراف گرتا جارہا ہے، بی جے پی کے قدم آگے بڑھتے جارہے ہیں جس کے واضح ثبوت اتر پردیش جیسی ریاست میں دوسری مرتبہ بھاجپا کی اتنی بڑی جیت حاصل کرنا ہے، نیز اس نتیجہ کو دیکھ کر ایک مرتبہ پھر بہار کی عوام، سیکولر سیاست دانوں، نتیش کمار اور لالو پرساد جیسے لیڈروں کو مبارکباد دینے کا جی چاہ رہا ہے جنہوں نے حالات کا صحیح اندازہ کرکے عظیم اتحاد قائم کیا اور بی جے پی کو بہار سے الٹے پاؤں لوٹنے پر مجبور کردیا، کاش ایسا ہی کچھ یوپی میں بھی ہوتا لیکن نہیں ہوسکا اور اپنے قارئین سے معذرت کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ یوپی سے یہ امید نہیں تھی۔
(کالم نگار بہار تعلیمی مرکزکی نائب صدر اور ملت ٹائمز کی ایسوسیٹ ایڈیٹر ہیں )
nuzhatjahanm@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *