شیر میسور کے دیار میں (پہلی قسط)

30

شمس تبریز قاسمی
بنگلور کو شہر گلستاں کہا جاتا ہے ، لیکن کیوں کہا جاتا ہے اس کا اندازہ بنگلور ایئر پورٹ سے آج نکلتے وقت ہوا، ہر طرف ہریالی تھی، سبزہ تھا ، پھولوں اور پتیوں کی قابل دید سجاوٹ تھی، یہ سلسلہ کوئی ایئر پورٹ سے متصل ایک آدھ کیلومیٹر تک محدود نہیں بلکہ دسیوں کیلومیٹر تک اسی طر ح کا نظارہ دیکھنے کو ملا، راستے کے دونوں جانب کی یہ خوبصورتی دیکھتارہا ،محظوظ ہوتا رہا، لطف لیتا رہا ساتھ میں یہ سب دیکھتے ہوئے میری حیرانی بھی بڑھتی رہی، بالآخر ایئر پورٹ پر ریسیو کرنے آئے اپنے میزبان جناب جمیل احمد سے دل کی بات شیئر کرتے ہوئے میں نے کہا بنگلو رایئر پورٹ دہلی سے بھی خوبصورت ہے ، راستے کے دونوں اطرف جس طرح پھولوں کو سجایاگیا ہے ، جس انداز سے تزئین کاری کی گئی ہے وہ قابل تعریف اور بے نظیر ہے۔ یہ سن کر وہ کہنے لگے سب سے پہلے بنگلور میں ہی اس طرح کا ایئر پورٹ بناہے ،دہلی میں یہاں کی نقالی کی گئی ہے ، خوبصورتی اور تزئین کاری میں بنگلورو کا کسی اور شہر سے کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں کیا جاسکتاہے نہ ہی اس کی نظیر پیش کی جاسکتی ہے ۔میں نے کہا شہرِ گلستاں یونہی نہیں کہا گیا ہے ،اس طرح گفتگو کرتے 45 کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہم شہر کے علاقے میں پہونچ گئے ،ہماری منزل بنگلور کے بجائے میسور تھی ،اس لئے شہر میں کسی وقفہ کے بغیر ہمار ی گاڑی چلتی رہے اور اپنی منزل کی جانب ہم بڑھتے رہے ،تقریبا 2 بجے میسور کے راستے میں واقع چٹ پٹ کے ایک ریسٹورینٹ میں ظہرانہ کیلئے رکے۔ریسٹورینٹ کے مالک نے خود باہر آکر ہمارے قافلے کا استقبال کیا ،اپنے ساتھ ریسٹورینٹ کے وی آئی پی زون میں لے گئے اور سب سے بہتر کھانا ساتھ بیٹھ کر انہوں نے کھلایا ،بہت اہتمام کے ساتھ انہوں نے جنگلی مرغا کھلایا جس کے بارے میں سبھی کا کہناتھاکہ اس طرح کا مرغا یہاں کے علاو ہ کہیں اور دستیاب نہیں ہوتاہے ،ان لوگوں نے تیتر کا گوشت بھی کھلایا ،یہ بھی کہیں دستیاب نہیں ہے بلکہ کرناٹک میں بھی بہت مشکل سے تیتر کا گوشت مل پاتاہے ۔تیتر کھاتے وقت وہ کہاوت بھی زبان پر آگئی”آدھا تیتر آدتھا بیتر“ بوٹی کا آدھا حصہ ہی کھایاجانا ممکن ہوسکاتھا۔کھانا سے فارغ ہوتے ہی ریسٹورینٹ کے مالک نے ہمارے قافلے کے سربراہ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹر ی جناب ڈاکٹر منظور عالم کا چارد پوشی کے ذریعہ پرتپاک استقبال کیا ،ڈاکٹر صاحب کی خبر سن کر وہاں کچھ اور نوجوان جمع ہوگئے اور انہوں نے بھی یہاں کا ایک روایتی ہار پہناکر پرتپا ک استقبال کیا ۔
چٹ پٹ تاج ریسٹورینٹ سے سے ظہرانہ کرکے ہم اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہوگئے ،ہر پل میسور کی آمد کا انتظار کرنے لگے ۔میسور آنے کی شروع سے میری تمنا تھی ،میرے ذہنوں میں تاریخ میں پڑھے الفاظ سرنگا پٹنم ،میسور ،حیدر علی ،ٹیپو سلطان ،توپ اور اس طرح کی چیزیں گردش کررہی تھیں ،یہی سوچ رہا تھاکہ جسے میں نے اب تک پڑھا ہے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملے گا ۔اس سلطنت کی راجدھانی میں قدم رکھنے کا موقع نصیب ہوگا جس نے بیک وقت چار طاقتوں کا مقابلہ کیا تھا ،کئی سال تک انگریزوں کو ہندوستان سے دور رکھا تھا ۔قافلہ میں میسور کی زیارت کا شدت سے انتظار صرف مجھے ہی تھا کیوں کہ میرے علاوہ جو لوگ تھے وہ سب کئی مرتبہ یہاں آچکے تھے یا یہاں ان کا یہاں سے وطنی تعلق تھا ۔
شام چار بجے ہم میسور کی سرحد میں داخل ہوگئے ، اشتیاق بھر ی نگاہوں سے شہر کو دیکھنے لگے ،نظریں کھڑکی سے لگائے ہوئے ہر چیز پر نظر جمائے رہے ، رونق ، ہریالی ،سبزہ اور خوبصورتی آنکھوں کے راستے دل میں اتر نے لگی ،یہ بات سروے کے ساتھ مشاہدہ میں بھی سچ ثابت ہوتی دکھی کہ واقعی میسور ہندوستان کا نمبر ون صاف ستھر اور سبزہ زار شہر ہے۔ تاریخ کے اوراق بھی میری نگاہوں کے سامنے آگئے اور خیالوں میں ڈوب کر سوچنے لگے یہی وہ خطہ ہے جہاں ٹیپو سلطان نے جنم لیاتھا ،بہادری ،شجاعت ،رواداری اور دینداری کی ناقابل زوال تاریخ رقم کی تھی ،انگریزوں کا راستہ روکا تھا ،مراٹھوں کو ان کی اوقات بتادی تھی، نظام کی افواج کے بھی ڈانٹ کھٹے کئے تھے اندرون خانہ کی بغاوت سے بھی باخبر رہتے تھے اور میزائل بناکر دنیا کو عظیم جنگی سامان فراہم کیاتھا انہیں خیالات کے دوران ہماری گاڑی ہوٹل رجنٹا کے سامنے جاکر رک گئی جہاں قیام کا انتظام کیا گیاتھا،یہ شہر کا معروف تھری اسٹار ہوٹل تھا ،تمام جدید سہولیات سے لیس تھا ،چھٹی منزل پر ہمیں ٹھہرایا گیا جہاں سے پورا میسور نظر آتاتھا اور ایسا لگ رہاتھا کہ گیلری میں کھڑے ہوکر پورے شہر کا نظارہ کرتے رہیں ۔جیسے جیسے شام ڈھل رہی تھی یہ یہ نظارہ اور خوبصورت ہورہا تھا ،ہر طرف ہریالی تھی ، درخت اور ہر بھرے پودے دکھ رہے تھے ، فاصلے سے عمارتیں بنی ہوئی تھیں، کشادگی اور وسعت بہت زیادہ تھی۔ صفائی ستھرائی بھی بے مثال تھی ۔
میسور ہندوستان کا قدیم ترین شہر ہے لیکن تاریخ کے اوراق میں اسے جگہ حیدر علی اور حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمة اللہ علیہ کی وجہ سے ملی ہے ۔شہر کی اسی عظمت اور تاریخی حیثیت سے متاثر ہوکر قاضی القضاة مولانا مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ نے یہاں سے اتحاد امت کی تحریک چلائی تھی ۔نومبر 1992 میں آل انڈیا ملی کونسل کی داغ بیل ڈالی تھی، 25 سال مکمل ہونے پر اس شہرنے دوبارہ ملی کونسل کے کارواں کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی ، پر جوش ہوکر جشن سیمیں منانے کا فیصلہ کیا اور اپنی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر امت مسلمہ کو حوصلہ دینے کا کام کیا ۔ میری لئے خوشی کی بات یہ تھی کہ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے مجھے بھی اس سلور جبلی تقاریب میں شرکت کی دعوت دی۔ یوں ان کے ساتھ سفر کرنے کا خوبصورت اتفاق ہوا، سلور جبلی تقاریب میں شرکت کا موقع ملا ، ملی کونسل کو قریب سے دیکھا، متعدد شخصیات سے ملاقات بھی ہوئی اور سب سے خاص بات یہ رہی کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ کے قبر پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔(جاری)