آہ ! یہ کیسی قیامت ٹوٹی مجھ پر

17

خبر در خبر (640)
شمس تبریز قاسمی
آج میں بہت غمزدہ ہوں ۔جس تکلیف سے دوچار ہوں اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتاکیوں کہ میرے سرپرست۔ مخلص دوست اور کرم فرما اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ۔ میں بات کررہا ہوں ڈاکٹر عبد القادرشمس کی ۔ مرحوم عبد القادرشمس میرے مخلص دوست ۔ میرے محسن ، کرم فرما اور سرپرست تھے ۔ بلکہ وہ میرے لئے سب کچھ تھے۔ ملت ٹائمز کو آگے بڑھانے میں ان کا خصوصی کردار شامل رہاہے ۔ وہ ملت ٹائمز کو اپنا ادارہ اور میڈیا ہاؤس سمجھ کر اس کی ترقی اور فروغ کیلئے ہمیشہ کام کرتے رہے۔
جب میں نے دہلی میں قدم رکھا تو جن لوگوں نے میری رہنما ئی کی ۔ تربیت کی ۔انگلی پکڑ کر مجھے بہت کچھ سکھایا ان میں ڈاکٹر عبد القادر شمس سر فہرست ہیں ۔ مختلف مواقع پر میں نے ان کے ساتھ ملک کے کئی حصوں کا سفر کیا ۔ لوک سبھا الیکشن 2019 کے دوران ہم دونوں نے ایک ساتھ متعدد مرتبہ سیمانچل کا دورہ کیا اور سیکولر پارٹیوں کی جیت کیلئے ماحول بنایا۔ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی آفس میں اکثر رات کو ہم لوگ ملا کرتے تھے ۔ رات کے گیارہ بجے کے بعد مفتی محفوظ الرحمن عثمانی صاحب کی آفس میں ایک مجلس لگتی تھی جس میں ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی، ڈاکٹر عبد القادرشمس ، مفتی احمد نادر القاسمی اور ناچیز کی اکثر شرکت ہوتی تھی ۔ سوئے اتفاق کہیے کہ مارچ کے بعد ہم دونوں کی ملاقات نہیں ہوسکی ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں اپنے آبائی وطن سیتامڑھی میں رک گیا اور وہ دہلی میں تھے ۔ مئی میں وہ بھی اپنے آبائی وطن ارریا تشریف لائے تھے۔ کئی مرتبہ پروگرام بنا ملاقات کرنے کا لیکن ممکن نہیں ہوپایا ۔ میں نے انہیں کہا کہ میرے گھر پر تشریف لائیں انہوں نے کہاکہ ابھی چھوڑ دیجئے جب آپ کی شادی ہوگی تب آؤں گا لیکن افسوس کہ وہ اس سے پہلے ہی رخصت ہوگئے۔ فون پر لگاتار گفتگو ہوتی رہی ۔ بقرعید سے پہلے تک بات چیت کا سلسلہ جاری تھا ۔بقرعید کے بعد کوئی گفتگو نہیں ہوسکی ۔ 11اگست کو جب میں دہلی پہونچا تو وہ گرپس ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔متعدد مرتبہ ہسپتال گیا لیکن وہ بے ہوش یا سوئے ہوئے ملے اور بات چیت نہیں ہوسکی ۔ طبیعت بہت زیادہ بگڑنے کے بعد ہمدرد کے مجیدیہ ہسپتال میں منتقل کردیا گیا جہاں کوڈ ہسپتال میں ہونے کی وجہ سے ملنا ممکن ہی نہیں رہ گیا تھا اور آج 25اگست 2020 کو تین بجے ہسپتال سے ان کی لاش باہر نکلتے ہوئے دیکھا ۔ آنکھیں نم تھی ۔ دل رنجیدہ ۔ یقین نہیں آرہاہے کہ وہ لاش واقعی میں ڈاکٹر عبد القادرشمس کی تھی ۔حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے شکل تک دیکھنا ممکن نہیں ہوسکا ۔ اللہ تعالی جزائے خیر دے اس شخص کو جس نے یہ مشورہ دیا کہ آپ لوگ یہیں پر نمازہ جنازہ ادا کرلیں اور بالآخر وہاں موجود لوگوں نے ہمدرد میں ہی پہلی نماز جنازہ ادا کرلی ۔ نماز جنازہ میں نے ہی پڑھائی ۔ اتفاق کہیے کہ زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے نماز جنازہ کی امامت کی اور وہ جنازہ میرے دوست کا تھا ۔ وہاں جناب شاہ عالم صاحب ۔ فیض الاسلام صاحب ۔ خاور حسن صاحب ۔ ڈاکٹر نعمان قیصر صاحب انوار صاحب ۔ نوشاد صاحب وغیرہ بھی موجود تھے ۔
ڈاکٹر عبد القادرشمس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ سبھی کے دل میں اپنی جگہ بنالیتے تھے ۔ کسی سے دشمنی اور مخالفت نہیں کرتے تھے ۔ بیک وقت مختلف سوچ ، فکر ، جماعت ، نظریہ اور ذہن کے حامل افراد سے وہ تعلقات خوشگوار رکھتے تھے ۔ وہ ہر ایک کو آگے بڑھا نا چاہتے تھے ۔ ترقی دلانا چاہتے تھے اور اپنی ذات سے بھر پور مدد کرتے تھے ۔ ایک نامور صحافی، اردو کے مین اسٹریم اخبار میں سینئر سب ایڈیٹر اور مشہور شخصیت ہونے کے باوجود عجز و انکساری ان کی زندگی کی خاص شناخت تھی ۔ ان کے بارے میں یہ جذبات صرف میرے نہیں بلکہ مجھ سے سینکڑوں لوگوں کے ہیں ۔
48 سالہ ڈاکٹر عبد القادر شمس اردو کے نامور اور مشہور صحافی تھے ۔ طویل عرصہ سے وہ روزنامہ راشٹریہ سہارا میں بطور سینئر سب ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ، ہفت روزہ عالمی سہارا کے پہلے وہ سب ایڈیٹر تھے۔ ملی تنظیموں ، دینی اداروں ۔ سماجی شخصیات ۔ علماء،اکابرین اور دانشوران سمیت سبھی طبقہ سے ان کے گہر ے تعلقات تھے اور ہر جگہ انہیں یکساں مقبولیت حاصل تھی ۔ انہوں نے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت حاصل کی تھی اور ایک طویل عرصہ تک ان کی صحبت میں زندگی گزاری تھی ۔ وہ آل انڈیا ملی کونسل کے مختلف شعبوں میں طویل عرصہ تک رہے ۔ ماہنامہ اتحاد ملی کے بھی وہ اسسٹنٹ ایڈیٹر رہ چکے تھے ۔ ملت ٹائمز سے ان کا نہ صرف گہرا رابطہ تھا بلکہ پردہ کے پیچھے سے ہمیشہ ا س کی ترقی اور بہتری کیلئے کوشاں رہتے تھے اور اپنا ادارہ سمجھتے تھے۔ بہار کے ارریا میں وہ ایک بڑے مدرسہ کے بھی بانی ومہتمم تھے ۔ ادارہ دعوة القرآن ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صدر تھے اور کئی اداروں کے ذمہ دار تھے ۔
ڈاکٹر عبد القادر شمس کا وطن بہار کے ارریا ضلع میں ڈوبا گاؤں ہے ۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسیٹی سے بھی تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہوئے ۔ وہ دسیوں کتاب کے مصنف ، سنجیدہ مزاج اور زود نویس قلم کار تھے ۔ صحافت کے علاوہ وہ سماجی ، سیاسی ،ملی اور دینی سرگرمیاں بھی ہمیشہ انجام دیتے تھے ۔
تقریباً گذشتہ بیس دنوں سے وہ بیمار تھے ۔ 3اگست کو انہیں نزلہ بخار آیا اور اس کے بعد طبعیت بگڑتی گئی ۔ شروع میں انہیں شاہین باغ کے گربس ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن سدھار نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجیدیہ ہسپتال میں منتقل کردیا گیا ۔کرونا کا ٹیسٹ ہوا جس میں ان کی رپوٹ پازیٹیو آئی اور طبیعت مسلسل بگڑتی رہی ۔ 25اگست 2020 کی صبح کرونا کا دوبارہ ٹیسٹ ہوا جس میں رپوٹ نگیٹیو آئی ۔ امید تھی کہ اب طبعیت میں سدھار ہوجائے گا ۔ بارہ بجے ان کے صاحبزادے عمار جامی میری آفس آئے ، بتانے لگے کہ وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ کرونا کی رپوٹ آج صبح نگیٹیو آئی ہے ۔ مختصر ملاقات کرکے عمار جامی ہسپتال چلے گئے اور ٹھیک ڈیڑھ بجے ان کے انتقال کی خبر آنے لگی ۔ ہردلعزیز شخصیت ڈاکٹر عبد القادر شمس ہمیشہ کیلئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ۔
ڈاکٹر عبد القادر شمس کی نعش ہسپتال انتظامیہ نے اہل خانہ کے حوالے کردیا ۔ تقریباً چار بجے ہسپتال کے احاطہ میں ہی موجود لوگوں نے پہلی نمازہ جنازہ ادا کی ۔اس کے بعد اہل خانہ لاش لیکر ارریا کیلئے روانہ ہوگئے ۔ وہیں ان کی تدفین ہوگی ۔
موت یقینی ہے ۔کسی کو اس سے چھٹکارا نہیں ہے لیکن کچھ موت ا یسی ہوتی ہے جو آدمی کو جھجنھوڑ دیتی ہے ۔آج میں نے صرف ایک دوست اور اپنا سرپرست نہیں کھویا ہے بلکہ ایسا لگ رہاہے کہ فیملی کا ا یک اہم ممبر رخصت ہوگیاہے ۔ یہ صرف احساس نہیں بلکہ حقیقت بھی ہے ۔ میرے ان کے تعلقا ت بھائیوں جیسے تھے ۔وہ ہمیشہ اپنے گھر پر بلاتے تھے ۔ ساتھ کھلاتے تھے ۔ اپنے مختلف رشتہ داروں اور جاننے والوں کے یہاں ساتھ لیکر جاتے تھے ۔ اپنے گاﺅں ارریا میں بھی وہ لیکر مجھے گئے ۔ ان کے ساتھ میڈیا کے مختلف اہم اداروں میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا ۔ انہیں کی کوششوں کی وجہ سے ملت ٹائمز کا یوٹیوب چینل شروع ہوا ۔ آغاز کیلئے جس شخصیت کا انٹرویو لینے کا میں نے فیصلہ کیا ان تک رسائی بھی مرحوم کی وجہ سے ہی ہوئی ۔ سچ پوچھیے تو دوست بہت مل جائیں گے لیکن کیا ان میں کوئی عبد القادر شمس جیسا مل پائے گا ؟
وفات کے بعد مرحوم کی چھوٹی بیٹی میرے سینے سے چپک کر رونے لگی ۔ اس کے الفاظ تھے مجھے ڈاکٹر بننا تھا اب میں کیا کروں گی، کیسے ڈاکٹر بنوں گی۔ میں نے کہا آپ کو اب ہر حال میں ڈاکٹر بننا ہے تاکہ آپ کے والد کی روح کو سکون ملے ۔ ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ وہ کہنے لگی اب کسے دکھاؤں گی میں ڈاکٹر بن کر ۔
ڈاکٹر عبد القادر شمس کے تعلق سے یادوں کا ایک سمندر ہے ۔ انشا ءاللہ تعالی اگلے چند دنوں میں کچھ چیزیں سپرد قرطاس کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ملت ٹائمز کے یوٹیوپ پر خبر د رخبر کے پروگرا میں آج میں نے مرحوم ڈاکٹر عبد القادرشمس کو ہی خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ میں نے وہاں بھی درخواست کی ہے اور یہاں بھی آپ سے درخواست ہے کہ ڈاکٹر عبد القادر شمس کیلئے دعاء کا اہتمام کریں ۔ اگر آپ عالم دین اور حافظ قرآن ہیں تو یہ التجا ہے کہ قرآن شریف پڑھ کران کے نام ایصال ثواب کریں ۔
اللہ تعالی مرحوم کو غریق رحمت کرے ۔ اہل خانہ کو صبر جمیل عطافرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے ۔ (آمین)
(مضمون نگار ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اور پریس کلب آف انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں )
stqasmi@gmail.com

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں