شیر میسور کے دیار میں (دوسری قسط)

11

شمس تبریز قاسمی
(گذشتہ سے پیوستہ )
میسور آج ہندوستان کے ایک شہر اور ضلع کا نام ہے لیکن کبھی اس کی حیثیت ایک ریاست اور بادشاہت کی تھی، سلطنت خداد اس کا نام تھا ۔ 1399 میں یہ ریاست قائم ہوئی جس پر شروع کے کچھ دنوں میں وجے ناگرا ایمپائر کی حکومت رہی اس کے بعد 1565 میں ویدیار فیملی کی بادشاہت یہاں قائم ہوگئی۔ یہ بادشاہت اٹھارہویں صدی میں بہت کمزور ہوگئی، راجاﺅں نے عیاشی کی انتہاء کردی اور انتظام و انصرام کی تمام تر ذمہ داریاں فوجی سربراہ حیدر علی کے ہاتھوں میں آگئی۔ تاریخ کے مطابق حیدر علی نے میسور کے ہندو راجہ کی فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا تھا لیکن وہ اپنی بہادری اور قابلیت کی بدولت جلد ہی راجہ کی فوجوں کا سپہ سالار بن گئے۔ راجہ اور اس کے وزیر نے حیدر علی کے بڑھتے ہوئے اقتدار سے خوفزدہ ہو کر ان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ حیدر علی نے وقت رہتے اس سازش کو سمجھنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے میسور کے تخت پر قبضہ کر لیا، تاہم وسعت ظرفی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے انہوں نے بغات نہیں کی ، راجہ اور اس کی فیملی کو کسی طرح کا کوئی نقصان پہونچانے کے بجائے ان کو راجہ کے منصب پر برقرار رکھا، لیکن اقتدار پوری طرح اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور یوں 1761 سے جنوبی ہند میں سلطنتِ خداداد کا آغاز ہوگیا۔
حیدر علی کو اپنے 20 سالہ دور حکومت میں مرہٹوں، نظام دکن اور انگریزوں تینوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اگرچہ ان لڑائیوں میں ان کو ناکامیاں بھی ہوئیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے مالا بار کے ساحل سے لے کر دریائے کرشنا تک ایک بہت بڑی ریاست قائم کرلی جس میں نظام دکن، مرہٹوں اور انگریزوں سے چھینے ہوئے علاقے بھی شامل تھے۔ انہوں نے میسور کی پہلی جنگ (1767 تا 1769) اور دوسری جنگ (1780ئ تا 1784 ) میں انگریزوں کو کئی بار شکست دی۔ دوسری جنگ میں حیدر علی نے نظام دکن اور مرہٹوں کو ساتھ ملا کرانگریزوں کے خلاف متحدہ محاذ بنایا۔ اگر مرہٹے اور نظام ان کے ساتھ غداری نہ کرتے اور عین وقت پر ساتھ نہ چھوڑتے تو کم از کم جنوبی ہند سے حیدر علی انگریزی اقتدار کا بالکلیہ خاتمہ کردیتے۔ حیدر علی کی ان کامیابیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی افواج کو جدید ترین طرز پر منظم کیا اور ان کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا۔
ابھی میسور کی دوسری جنگ جاری تھی کہ حیدر علی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ ان کا لڑکے فتح علی ٹیپو سلطان جانشیں ہوئے۔ ٹیپو سلطان جب تخت پر بیٹھے تو ان کی عمر 32 سال تھی۔ وہ ایک تجربہ کار سپہ سالار تھے ۔ باپ کے زمانے میں میسور کی تمام لڑائیوں میں شریک رہ چکے تھے۔ حیدر علی کے انتقال کے بعد انہوں نے تنہا جنگ جاری رکھی کیونکہ مرہٹے اور نظام دکن انگریزوں کی سازش کا شکار ہو کر اتحاد سے علاحدہ ہو چکے تھے۔ ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو کئی شکستیں دیں اور وہ 1784ء میں سلطان سے صلح کرنے پر مجبور ہو گئے۔
ٹیپو سلطان ایک اچھے سپہ سالار ہونے کے علاوہ ایک مصلح بھی تھے۔ حیدر علی ان پڑھ تھے لیکن ٹیپو سلطان ایک تعلیم یافتہ ور دیندار انسان تھے۔ نماز پابندی سے پڑھتے تھے ، قرآن پاک کی تلاوت ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ٹیپو سلطان ہر وقت باوضو رہتے نماز فجر کے بعد قرآن پاک تلاوت کرتے، زمین پر چادر بچھاکر سوتے، سچے مسلمان کی طرح ہر قسم کے تعصب سے پاک رہے، اپنے ہر شاہی فرمان کے آغاز پر اپنے ہاتھ سے بسم اللہ لکھتے۔ عظیم سپاہی کی حیثیت سے آپ نے شمشیر زنی ، تیر اندازی، نیزہ بازی، گھوڑ سواری ، پیراکی میں مہارت حاصل کی۔ علماء کی قدر کرتے ، آپ کو عربی اور فارسی پر خاصہ عبور تھا، انگریزی اور فرانسیسی زبان بھی سیکھ لی تھیں، مقامی بولی کنٹری سے بخوبی واقف تھے۔ اب جہاں تک اردو زبان کی بات ہے تو اس وقت یہ زبان جنوبی ہند میں پنپ رہی تھی۔ ڈاکٹر فاضل پرویز نے اپنی کتاب میں یہ دعوی بھی کیا ہے کہ اردو کا پہلا رسالہ ٹیپو سلطان کے دور میں ہی شروع ہواتھا ۔
ٹیپو سلطان نے اپنی ریاست کے عوام کی اخلاقی و معاشرتی خرابیاں دور کرنے کے لیے اصلاحات کیں۔ شراب اور نشہ آور چیزوں پر پابندی لگائی اور شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی فضول رسومات بند کرائیں۔ پیری مریدی پر بھی پابندی لگائی۔ ٹیپو سلطان نے ریاست سے زمینداریاں بھی ختم کردی تھیں اور زمین کاشتکاروں کو دے دی تھی جس سے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ ٹیپو سلطان نے کوشش کی کہ ہر چیز ریاست میں تیار ہو اور باہر سے منگوانا نہ پڑے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی کارخانے قائم کیے۔ جنگی ہتھیار بھی ریاست میں تیار ہونے لگے۔ انگریزوں سے نمٹنے کیلئے ٹیپو سلطان نے اپنی بری فوج کو جدید خطوط پر منظم کیا۔ بحری فوج قائم کی تاکہ سلطنت کے مغربی ساحل کی حفاظت ہو۔ سمندروں میں مقناطیسی چٹانوں سے بچاؤ کیلئے جہازوں میں تانبے کا استعمال ٹیپو سلطان کے ذہن رسا کا مرہوم منت ہے، سلطنت کے چار شہروں میں ” تارا منڈل “ کے نام سے چار اسلحہ کارخانے قائم کئے گئے۔ ان ہی کے دور حکومت میں میزائل کی سازی کی بنیاد پڑی ۔ان ہی کے عہد میں ریاست میں پہلی مرتبہ بینکنگ نظام کی شروعات ہوئی۔ ان اصلاحات میں اگرچہ مفاد پرستوں کو نقصان پہنچا اور بہت سے لوگ سلطان کے خلاف ہوگئے لیکن عوام کی خوشحالی میں اضافہ ہوا اور ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ میسور کی خوشحالی کا اعتراف اس زمانے کے ایک انگریز نے ان الفاظ میں کیا ہے: ”میسور ہندوستان میں سب سے سر سبز علاقہ ہے۔ یہاں ٹیپو کی حکمرانی ہے۔ میسور کے باشندے ہندوستان میں سب سے زیادہ خوشحال ہیں۔ اس کے برعکس انگریزی مقبوضات صفحہ عالم پر بدنما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں رعایا قانون شکنجوں میں جکڑی ہوئی پریشان حال ہے“۔ (جاری )